ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو:ہراسانی کا معاملہ درج کرانے پولس تھانہ پہنچی لڑکی کو ہی پیٹے جانے کا الزام؛ پولس کے خلاف شکایت درج

منگلورو:ہراسانی کا معاملہ درج کرانے پولس تھانہ پہنچی لڑکی کو ہی پیٹے جانے کا الزام؛ پولس کے خلاف شکایت درج

Sun, 08 Nov 2020 20:51:48    S.O. News Service

منگلورو،8؍نومبر(ایس او نیوز)اپنے ساتھ ہورہی مسلسل جنسی ہراسانی کےخلاف شکایت درج کروانے کے لئے بجپے پولیس اسٹیشن پہنچنے والی لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ وہاں پر موجود  تین لیڈی پولیس عملے نے اس کی پٹائی کی ہے۔

اس معاملے میں لڑکی کی شکایت پرسٹی پولیس کمشنر وکاش کمار کی ہدایت کے مطابق بجپے پولیس اسٹیشن سے وابستہ تین لیڈی پولیس کانسٹیبلوں  کے خلاف آئی پی سی  کی مختلف دفعات کے تحت  پانڈیشور لیڈیز پولیس اسٹیشن میں کیس درج کرلیا گیا ہے۔پولیس نے  شکایت میں لیڈی پولیس عملے میں سے صرف  ایک کی شناخت ’رکشیتا ‘ کے طور پر کی ہے اور دیگر دو لیڈی پولیس والے کہا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ پٹائی کی وجہ سے لڑکی چل پھر نہیں پارہی ہے اس لئے اس کو علاج کے لئے وینلاک اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔بہبودیٔ اطفال کمیٹی نے بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اورسٹی پولیس کمشنر کو  اس کی مکمل رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ شہر کے گنجی مٹھ  علاقے کی ایک 16سالہ لڑکی فیس بک پر متعارف ہونے والے شریکانت کی طر ف سے کی جانے والی جنسی ہراسانی  کے خلاف شکایت درج کروانے کے لئے اپنے والدین کے ساتھ 4نومبر کوبجپے پولیس اسٹیشن پہنچی تھی۔اس وقت ہراساں کرنے والے لڑکے کوبھی پولیس اسٹیشن میں طلب کرلیا گیا۔پھر لڑکی کے والدین کو باہر بٹھا کر تفتیش کرنے کے نام پر لڑکی اور لڑکے کو اندر لے جایاگیااوروہا ں تین لیڈی پولیس کانسٹیبلوں نے بے دردی کےساتھ لڑکی پر لاٹھیاں برسائیں، جبکہ لڑکے کو یونہی چھوڑ دیا گیا۔

اس سے لڑکی کے پاؤں کے تلوؤں پر خون جم گیااور ٹانگوں اور کمر میں لاٹھی کے نشان   اور اس کی پیٹھ پر بوٹ کے نشان بن گئے ہیں ۔اس وجہ سے اس کا چلنا پھرنا دوبھر ہوگیا ہے۔ناقابل برداشت درد کی وجہ سے اس کو تیسرے دن وینلاک اسپتال لےجایا گیا۔

چونکہ لڑکی کے والدین انتہائی مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں اس لئے جب یہ معاملہ سامنے آیا تو بہودیٔ اطفال کمیٹی کے پاس شکایت درج کرنے کے بعد کمیٹی کے اراکین نے اسپتا ل میں پہنچ کر تفصیلات معلوم کیں اور فوری طور پر اس معاملے کو پولیس کمشنر کے علم میں لایا گیا۔پھر لڑکی کے والد کی طرف سے بھی پولیس کمشنر کے پاس شکایت درج کروائی گئی۔اس کے علاوہ بہبودیٔ اطفال کمیٹی نے چائلڈ رائٹس کمیشن کو مکتوب روانہ کیا ہے کہ اس معاملے میں چونکہ لڑکی نابالغ ہے اس لئے حملہ کرنے والی لیڈی پولیس کانسٹیبلس کے خلاف پوکسو ایکٹ میں بھی معاملہ درج ہونا چاہیے مگر پانڈیشور پولیس نے اس کو نظر انداز کیا ہے۔


Share: